آنکھوں سے آنسو چھلک رہے ہیں
سانسوں کی آہیں بھلک رہی ہیں
بھاگ رہا ہوں سایہ کے پیچھے
روندہ رہا ہوں جذبات کو پاؤں کے نیچے
کتنے ہی خواب تھے پلکوں پے سینچے
ٹوٹے وہ بن کد کانچ کے شیشے
دن شاموں میں بدل رہے ہیں
شامیں راتوں میں ڈھل رہی ہیں
امید کا دیا جل رہا ہے
کچھ لمحے مجھے ایسے لگے
جیسے تو ہے میرے سامنے
چھونا چاہوں ہاتھوں سے تجھے
جب دیکھا ہاتھ تھے خالی
میرا وہم،میرے گمان کی بنائی ہوئی جالی
روح بھی میری سلگ رہی ہے
دل بھی میرا مچل رہا ہے
اور تجھ کو ہی پکار رہا ہے
تھام لو آکر ہاتھ یہ میرا
تھام لو آکر ہاتھ یہ میرا
شاعرہ: گوہرے نایاب

aahhhh amazing 👌👌
ReplyDeleteShukran beta
DeleteWell done beta. 😍😍 Keep it up
ReplyDeleteThanks
DeleteThank you sooooo Much Mam g... feeling glad to see you here😍😍😍😍
Delete